اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ سوات میں سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، لیکن دھماکوں اور حملوں کی خبریں سن کر خوشی ماند پڑ جاتی ہے۔ ہر کوئی اپنا کردار نبھائے، تو منزل مل سکتی ہے۔ میں اب بچی نہیں ایک بالغ لڑکی ہوں۔ سوات کے بچوں کی تعلیم کا مشن اب دنیا کے بچوں کی تعلیم کا مشن بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد کو بندوق سے مارا جا سکتا ہے، دہشتگردی کو نہیں۔ دہشتگردی کا خاتمہ علم سے ہی ممکن ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے مزید کہا ہے کہ عالمی رہنماؤں سے ملکر بہت کچھ سیکھا۔ پاکستان میں تعلیم پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ کم از کم پرائمری تعلیم ہر بچے کو ملے۔ میں سیاسیات اور تاریخ پڑھ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر سے بھی کہا کہ ہم بندوق سے دہشتگرد کو مار سکتے ہیں، لیکن دہشتگردی کو ختم نہیں کرسکتے۔ دہشتگردی ایک سوچ ہے، جس کو صرف تعلیم سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم کے علاو ہ دہشتگردی کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کا جذبہ، نواز شریف کی معاشی پالیسی، آصف زرداری کی ذہانت اور مولانا فضل الرحمان کی تقریریں پسند ہیں۔ میں سب سے کہتی ہوں کہ وہ تنقید کی بجائے عوامی مسائل کے حل کیلئے ایک ہوں۔
.......
/169